Prepaid Sims will be Block in Future of Pakistan Rehman Malik

Posted by

Prepaid Sims will be Block in Future of Pakistan

(Government of Pakistan (interior minister rehman malik) has announced that prepaid Sims will be blocked in different intervals due to security reasons. Interior minister Rehman malik said there are many sims working in Pakistan that is not registered and other sims are registered with fake National Identity Card (ID Card).

Prepaid Sims will be Block in Future of Pakistan

Prepaid Sims will be Block in Future of Pakistan

Prepaid sims are using in different bomb blasts in different cities of Pakistan. Telecom companies of Pakistan and just going to sale their Sims. Rehman malik said prepaid Sims are biggest weapon in the hands of terrorist and unauthorized sims were being used by terrorist. Let’s see what will be doing in future. Because there are almost Pakistanis are using prepaid Sims, Prepaid Sims are easy to use and there is no need of advance balance in prepaid sims.

People of Pakistani will not be happy and they want to use continually of prepaid Sims. If there are problems any departments it does not mean that they will be closed try to fix the errors.

So government should be take action against Fake Sims, not for everyone.

 

Prepaid Sims will be Block in Future

Prepaid Sims will be Block in Future

 This Announcement is Not Final Yet. This is observation from rehamn Malik.

2 Comments

  1. اسلام علیکم۔

    أپ سے گزارش عرض ھے اس ای میل کو ایک بار ضرور پڑھیے گا۔ کیونکہ یہ 25 لاکھ لوگوں اور خاندانوں کی ذندگی اور موت کا مسعلہ ھے۔ جیسا کہ اپ جانتے ھیں رحمان ملک صاحب نےموبائل کنیکشن کی فروخت پر پابندی لگادی ھے جس سے 25 لاکہ لوگوں کا اور 25 لاکھ خاندانوں کا زریع معاش وابستہ تھا۔ہر پیشہ میں اچھے برے لوگ ھے اس پیشہ میں بھی تھے مگر چند سو لوگوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں سے انکا کاروبار چھین لیا جاے یہ کہاں کا انصاف ھے ؟

    سرکاری ملازمین کرپشن رشوت ستانی کرتے ہیں تو کیا وہ سرکاری ادارہ بند کردینا چاہیے؟

    موبایل سمز غلط ناموں پر کیسے ایکٹیو کی جاتی ہیں۔

    موبائل کمپنی کنیکشن سیلز کا ٹارگٹ دیتی ہیں ہر ماہ فرنچایز کو 3 سے 4 ہزار کنیکشن ۔ اور دھمکاتی بھی ھیں کہ اگر ٹارگٹ پورا نہ کیا تو کمیشن نہ ملے گا۔لیگل کرو یا ان لیگل سیلز لاو۔ فرنچایز کے پاس عوام اور اپنے تمام کسٹمرز کے شناختی کارڈ ہوتے ہیں۔

    سمز ایکٹیو کرنے کے لیے پوچھے جانے والے خفیہ سوال انکے جواب صرف کمپنی اور کمپنی کے ملازمین کو پتہ ھوتے ہیں سسٹم کی کمزوریاں بھی۔ کچھ موبائل شاپس کمپنی ملازمین کی یا انکی پارٹنر شپ میں ہوتی ھیں جہاں سے یہ ایکٹیو سمز فروخت کی جاتی ہیں ۔فرنچایز سے اس لیے فروخت نہیں کرتے کہ پی ٹی اے کا ڈر ہوتا ہے۔ تو قربانی کا بکرا اور بدنامی کا بکرا موبایل شاپ بن جاتی ہے دولت مند کرپشن کرکے اپنے تعلقات اور پیسہ کی وجہ سے بچ جاتا ہے۔ اور پھنستا غریب دکاندار اور کمپنی ملازم ھے جو اپنی نوکری یا دکان بچانے کے لیے کمپنیز کی بلیک میلنگ کا شکار ہوجاتا ہے۔اب بھی یہ ہوا کہ گورنمیٹ اور پی ٹی اے نے کمپنی اور فرنچایز کو تحفظ فراہم کردیا۔اور 25 لاکھ دکانداروں کو بےروزگارکردیا۔موبیل شاپس پر رکھا کروڑوں روپے کی سمز نہ کمپنی واپس لینے کو تیار ہے نہ بیچنہ دینے کو۔ رحمان ملک صاحب دکانداروں کا مال کمپنی کو واپس لینے کے لیے بھی کوئی حکم جاری فرمایں کٰہ بےروزگار کرنےکا حکم تو بہت جلدی جاری کردیا تھا۔

    جو سم موبائل شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب وہ 500 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60 روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔کہیں اس پالیسی کا مقصد صرف کپمنی اور فرنچایز کو فایدہ اور عوام کو لوٹنا تو نہیں ؟ زرا سوچئے

    جس ملک کا قانون صرف طاقتور اور پیسے والو کو تحفظ فراہم کرتا اور کمزوروں کےفورا خلاف حرکت میں اجاتا ہو۔وہاں کل بھی اج بھی اور أئندھ بھی طاقتور لوگ ان ضمیر فروش فرنچایز اور کمپنی ملازمین سے بنا نام کی سمز حاصل کرتے رہیں گے۔ اور کچھ زہین لوگ کبھی موبئل شاپس بند کرنے کے حکم کبھی عوام کو بند کرنے کے حکم جاری کرتے رہیں گے۔ھمارے خیال سے موبئل فون پولیس کے لیے مخبر کا کام کرتا ہے۔جسکہ زریع ان کی أپس کی بات چیت ان کی پلاننگ پتہ چلتی ھے۔ ان کو پکڑنے کے لیے وہ طریقہ اپنائے جائیں جو ساری دنیا میں رائج ہیں۔ سم لوکیٹر،موبائیل لوکیٹر۔ اگر تخریب کار موبائل کی جگہ انٹرنیٹ سروسس سے کالنگ کریں تو انکا پکڑنا اور مشکل ہوگا۔ کہ غیرملکی ویب سئٹس انکو معلومات شائد ہی فراھم کریں۔

    موبائل سگنلز بند کرنے سے فی الحال تو فایدہ ہو رہا ھے مگر تخریب کار وائرلیس واکی ٹاکی یا دوسرے ٹیکنالوجی استعمال کرنا شروع کریں گے، بم بنانے کے طریقے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔بم بنانے کا سامان بھی دکانوں پر دستیاب ہے غیرقانونی اسلحہ بھی بااسانی دستیاب ہے مگر ساری توجہ موبائل سمز پر مرکوز۔ کیونکہ اسلحہ کہ تاجروں اور موت کے سوداگروں کے حمایتی لوگ حکومتیں بنا اور گرا سکتے ہیں۔ رشوت اور سفارش پر بننے والے سرکاری ملازم میرٹ پر بننے والے تخریب کار کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟

    رحمان ملک صاحب کا تعلق سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہوتاہے۔ سیکورٹی اداروں کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک کم ہو یا زیادہ اس اقدام سے 25 لاکھ خاندان فی خاندان 5 افراد بھی ہو تو 1کروڑ 25 لاکھ افراد اس فیصلہ سے متاثر ہوں گے کیا الیکشن سے پہلے 1کروڑ 25 لاکھ لوگوں کو گورنمنٹ سے بدظن کرنا کیا یہ فیصلہ رحمان ملک صاحب کا صحیح ہے؟

    اگر أج کوئی بھی سیاسی جماعت ان 25 لاکھ خاندانوں کے لیے أواز اٹھاے گا تو ان 1 کروڑ 25 لاکھ لوگوں کی دعا اور انکا ووٹ اس جماعت کے لیے ہی ھوگا۔

    میری نظر میں ایک تجویز ہے جس سے یہ تمام لوگ بھی بےروزگاری سے بچ سکتے ہیں اور سمز ایکٹیویشن کا نظام بھی غلطیوں سے پاک ہوسکتا ہے۔اگر حکومت تمام موبائل شاپس کو سم ان ایکٹیو سمز کمپنی پیک شدہ سیل کرنے کی اجازت دے دے۔ کیونکہ ان ایکٹیو سم کسی بھی استمعال میں نہیں اسکتی نہ کال کی جاسکتی ہے نہ اسکتی ہے نہ مسیج وہ ایک ڈیڈ کنکشن ہوتی ہے۔ کسٹمر کسی بھی موبائل شاپ سے اپنی پسند کا نمبر خریدے پھر اس کنکشن کو ایکٹیو کرانے کے لیے قریبئ نادرا أفس یا موبایل فرنچایز جا کر بایومیٹرک سسٹم میں اپنی تمام معلومات فراہم کر کے کنکشن کارأمد ایکٹیو کرالے۔ اس طرح اگر کوی غلط ایکٹیویشن ھوگی بھی تو وہ صرف نادرا أفس والا یا فرنچایز والا کر سکے گا دکاندار نہیں۔ ہم شرطیہ کہتے ہیں اس سے غلط ایکٹیویشن ختم ہوجایں گی۔

    امید ہے أپ ہمارے لیے کوشش کریں گے۔

    کیونکہ ہم یہ ای میل صرف ان افراد اور اداروں کو کر رہے ہیں جن سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ ہیں۔اگر أپ کے بس میں کچھ نہیں پھر بھی أپ اس ای میل کو دوسروں کو فارورڈ کرکے ھماری مدد کر سکتے ہیں۔شاید أپ کی زرا سی کوشش سے 25 لاکھ گھروں کا چولہا بجھنےسے بچ جاے۔

    شکریہ

    سجاد شاہ
    ,,////

  2. Best of luck

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.